آئرن(فولاد) کی کمی ‏
امراض،بچوں کے امراض

آئرن(فولاد) کی کمی ‏

26 July, 2021

انسانی جسم کو خون کے خلیوں میں موجود ہیموگلوبن بنانے کے لئے آئرن یا فولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیموگلوبن جسم کو آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔  آئرن کی کمی بچوں میں خون کی کمی کی سب سے عام وجہ ہے۔

 

آئرن کی کمی کا خطرہ کن بچوں کو ہوتا ہے؟

یوں تو آئرن کی کمی کا شکار ہر بچہ ہو سکتا ہے، مگر کچھ بچوں میں اس کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

   کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے۔

   وہ بچے جو مکمل طور پر ماں کے دودھ پرانحصار کریں۔

   وہ بچے جو صرف بکری / گائے کا دودھ پیتے ہیں۔

   قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے۔

   وہ بچے جن کی ماؤں میں حمل کے دوران آئرن کی کمی تھی۔

   وہ بچے جو مناسب مقدار میں آئرن سے بھرپور غذائیں نہیں کھاتے ہیں (لال گوشت ، مرغی ، مچھلی ، پھلیاں ،پالک، خشک پھل  جیسے کشمش ، خوبانی ، روٹی، پاستا ، مٹر وغیرہ)

 

 علامات:

آئرن کی کمی کی چند عام علامات درج ذیل ہیں ۔

   جلد کا رنگ پیلا ہونا

   تھکاوٹ

   اپنی عمر اور جنس کے دوسرے بچوں کے مقابلے میں وزن اور قد میں کمی

   ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنا

   بھوک کم لگنا

   چڑچڑاپن

   معمولی کام پر بھی  سانس پھولنا

   بار بار انفیکشن ہونا

   چند خاص  چیزیں کھانے  کے لئے غیر معمولی خواہشات  جیسے برف ، ریت ، پینٹ وغیرہ کھانا

یاد رہے کہ علامات صرف تب ظاہر ہوتی ہیں جب جسم میں آئرن اور خون کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں۔

 

تشخیص:

اکثر اوقات  علامات اور مریض کے معائنے کی بنیاد پر اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے۔ڈاکٹر خون کے کچھ ٹیسٹ بھی تجویز کرسکتا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جسم میں صحت مند سرخ خون کے خلیات اور آئرن کے ذخائر کتنے ہیں۔ اس سے ڈاکٹر کو دوا تجویز کرنے اور اس کا ریکارڈ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

 

علاج:

آئرن کی زیادہ تر دوائیں گولی یا شربت کی شکل میں دی جاتی ہیں۔بچوں کو آئرن کی دوائی دینے سے پہلے کچھ اہم نکات کو یاد رکھنا ضروری ہے:۔

   کھانے کے بیچ میں ہمیشہ آئرن کی دوائیں دیں تاکہ بچے کو پیٹ میں درد نہ ہو۔

   دوا دینے کے بعد ہمیشہ بچوں کا منہ دھو ئں کیونکہ اس سے ان کے دانت سیاہ ہو سکتے ہیں۔

   آئرن کی دوا گہرے رنگ کے پخانے کا سبب بن سکتی ہے لیکن یہ تشویشناک نہیں ہے۔

 

 

پیچیدگیاں:

دل کا مسئلہ: جسم میں کم آئرن اور سرخ خون کے خلیوں کی  کمی وجہ سے  دل ٹھیک سے کام نہیں کرسکتا اور بچے کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بچے کو خون کی بوتل کی ضرورت پڑے۔

 

نشوونما میں رکاوٹ: اگر بچے میں فولاد یا آئرن کی شدید کمی ہے تو اس سے ان کا وزن ،قد ،جسمانی سرگرمیوں میں ان کی شرکت اور تعلیم بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

 

بچوں کو آئرن کی کمی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

   جن ماؤں کو حمل کے دوران آئرن کی کمی ہو وہ آئرن کی گولیاں لیں اور اپنے بچوں کو بھی دیں۔

   جو بچے قبل از وقت پیدا ہوئے ہوں یا جو مکمل طور پر چھاتی کے دودھ پر  انحصار کریں، ان کو آئرن کی گولیاں استعمال کرائی جا سکتی ہیں۔

   بچوں کو گائے اور بکری کا دودھ بڑی مقدار میں نہیں دینا چاہئے ، اگر بچوں کی خوراک کا بڑا حصہ گائے بکری کے دودھ پر مشتمل ہو  تو انہیں گولیوں  کی شکل میں بھی آئرن دینا چاہئے۔

   چھ ماہ کی عمر کے بعد  والدین کو چاہئے کہ وہ عمر اور ضرورت کے مطابق بچوں کو آئرن سے بھرپور کھانا دیں۔

   (Vitamin C) وٹامن سی جسم میں آئرن کو جذب کرنے میں معاون ہوتا ہے لہذا بہتر ہے کہ بچوں کو ایسی غذائیں دیں جس میں کافی مقدار میں وٹامن سی موجود ہو (لیموں ، مالٹا ، گرما ، اسٹرابیری ،شملا مرچ ، ٹماٹر اور ہری سبزیاں) ۔

 

یاد رکھیں کہ جب بھی آپ کو لگے کہ آپ کے بچے میں آئرن کی کمی یا خون کی کمی ہے تو آپ کو ڈاکٹر سے ملنا چاہئے ۔ ڈاکٹر سے پوچھے بغیر آئرن کی دوائیں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اگر  ضرورت سے کم  استعمال کرنے سے  آئرن کی کمی اور خون کی کمی دور نہیں ہوگی اور اگر ضرورت سے زیادہ مقدار میں ان گولیوں کا  استعمال کیا جائے  تو اس سے  پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *