کینسر (سرطان)‏
امراض،کینسر اور خون کے امراض

کینسر (سرطان)‏

30 June, 2020

کینسر کیا ہے؟

کینسر کا نام سنتے ہی انسان کی رگوں میں خوف دوڑ جاتا ہے۔ کینسر ایک موذی مرض ہے اور اس کا علاج جدید میڈیکل سائنس کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج  بنا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم کینسر کی بیماری، اس کی اقسام اور علاج کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے ۔

 

خلیہ کیا ہوتا ہے؟

انسانی جسم اربوں کھربوں چھوٹے چھوٹے خلیوں سے مل کر بنا ہے۔ مختلف اقسام کے خلیے ہمارے جسم کے مختلف اعضاء بناتے ہیں۔ یہ خلیے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور انسانی آنکھ ان کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ انسانی جسم کا یہ بنیادی جزو صرف خوردبین سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جس  طرح ہر عضو کا کام دوسرے سے مختلف ہے، اس طرح ہر عضو کے خلیوں کی ساخت اور کام بھی دوسرے اعضاء کے خلیوں سے مختلف ہےاور  اکثر اعضاء ایک سے  زیادہ قسم کے خلیوں سے مل کر بنے ہوتے ہیں۔

 

خلیوں کی تقسیم اور کینسر

 قدرت نے جسم کے  خلیوں کے اندر نئے خلیے بنانے کی صلاحیت رکھی ہے جو کہ انسان کے جسم کی بڑھوتری اور مرمت کے لئے بہت اہم ہے۔ اس عمل میں ایک خلیہ  بالکل ایک جیسے دو خلیوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور نئے بننے والے خلیے پرانے خلیے کی فوٹو کاپی ہوتے ہیں۔ یہ عمل ایک خاص رفتار اور ضابطہ کار کے تحت چلتا ہے تا کہ تقسیم کا یہ عمل ضرورت کے مطابق چلے اور بے ڈھنگم انداز میں ہمارے اعضاء بڑے نہ ہوتے جائیں ۔

کینسر کے مرض میں جسم کے کسی عضو میں کسی خلیے کے جینیاتی مادے میں ایسی منفی تبدیلی آتی ہے جس سے وہ خلیہ قدرت کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہونے کی بجائے بلا روک ٹوک پے درپے تقسیم ہوتا چلا جاتا ہے۔ چونکہ تقسیم کے ہر عمل سے بننے والے نئے خلیے پرانے خلیے کی فوٹو کاپی ہوتے ہیں، اس لئے ان نئے خلیوں میں بھی لامحدود انداز میں تقسیم کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کچھ ہی عرصے میں ایک سے دو، دو سے چار، چار سے آٹھ کرتے کرتے ان خراب خلیوں کی تعداد اربوں کھربوں میں پہنچ جاتی ہے۔ خراب خلیوں کی اس بے ہنگم  تقسیم کا نام ہی کینسر ہے۔

جسم میں جس جگہ یہ خراب خلیے جمع ہو رہے ہوتے ہیں ، وہاں  ایک ایک گلٹی بن جاتی  ہے۔ دوسری صورت میں اگر یہ خرابی خون کے خلیوں میں پیدا ہو تو گلٹی بنانے کی بجائے یہ خلیے خون میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔ جب یہ خراب خلیے کسی جگہ اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں تو یہ جسم کے نارمل خلیوں کی جگہ لینا شروع کر دیتے ہیں اور اس جگہ جو عضو موجود ہوتا ہے اس کی کارکردگی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اگلی سٹیج پر یہ خلیے خون کی گردش یا دوسرے راستوں سے جسم کے اند ر دور موجود جگہوں پر پہنچ کر وہاں پر پھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح مرض دماغ، پھیپھڑوں، جگر اور ہڈیوں وغیرہ میں پھیل جاتا ہے اور مریض کی جان لے لیتا ہے۔

 

کینسر کی اقسام

چونکہ ہمارا جسم بیسیوں مختلف اقسام کے خلیوں سے مل کر بنا ہے، اور کینسر خلیوں کی خراب تقسیم کی بیماری ہے، اس لئے کینسر کی درجہ بندی بھی اس کے خلیوں کی قسم اور جگہ کے حساب سے کی جاتی ہے۔ مختلف اعضاء میں جنم لینے والے کینسر ایک دوسرے سے کئی طرح سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی علامات ایک سی نہیں ہوتیں اور اسی طرح ان کا علاج اور  نتائج  بھی مختلف ہوتے ہیں ۔

 

کینسر کی سٹیج کیا ہوتی ہے؟

کینسر کی سٹیج مرض کے جسم میں پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے بتائی جاتی ہے۔اس میں مرض کی چار سٹیجز میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔  مرض اگر اپنی اصل جگہ میں ہی پھیل رہا ہے اور اس سے بننے والی گلٹیوں کا حجم چھوٹا ہو تو سٹیج کم ہوتی ہے۔ لیکن اگر مرض جسم کے دور دراز حصوں میں پھیل چکا ہو تو اسے سٹیج فور /چوتھی سٹیج کہتے ہیں۔

 

کینسر کا علاج

کینسر کا علاج اس کی قسم اور سٹیج  پر منحصر ہے اور جسم کے مختلف اعضاء کے کینسر کا علاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔ مگر کینسر کی اکثر اقسام کا علاج  تین بنیادی طریقوں  سے کیا جاتا ہے: سرجری/ آپریشن، دوائیاں یا کیموتھراپی، شعاعوں کے ذریعے ۔اکثر اقسام میں ایک سے زیادہ طریقوں سے مریض کا علاج کیا جاتا ہے تا کہ جسم سے کینسر کے خلیوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

 

کینسر کی سکریننگ

چونکہ کینسر ایک جان لیوا مرض ہے اور اس کا علاج بہت مشکل ہے، اس لئے آج کل میڈیکل سائنس کی توجہ کینسر کے مرض کوجلدی پکڑنے پر بہت دھیان دے رہی ہے۔ بہت سے ایسے طریقے دریافت کیے گئے ہیں جن کے ذریعے کینسر کی سب سے زیادہ پائی جانے والی اقسام کو جلد از جلد پکڑا جا سکے۔ ان طریقوں کو کینسر سکریننگ کہا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ ظاہری طور پر صحتمند لوگوں میں کچھ ٹیسٹ کرنا ہے جن سے کینسر کو شروعاتی سٹیج میں پکڑا جا سکے، جس وقت علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔ ہر کینسر کے سکریننگ ٹیسٹ مختلف ہیں اور ایک خاص عمر کے بعد کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ٹیسٹوں کو چند سالوں کے وقفے سے دہرایا جاتا ہے۔ مثلا خواتین میں چھاتی کیے کینسر اور مردوں اور عورتوں دونوں میں بڑی آنت کے کینسر کے لئے سکریننگ ٹیسٹ کروانے کی افادیت ریسرچ سے ثابت ہو چکی ہے۔ اس لئے تمام لوگوں کو پچاس سال کی عمر کے بعد یہ ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔  

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *