کہیں آپ موٹاپے کا شکار تو نہیں؟
خوراک،موٹاپا

کہیں آپ موٹاپے کا شکار تو نہیں؟

02 July, 2020

WHOکے ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی آبادی موٹاپے کا شکار ہے۔ اس تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ موٹا پا زیادہ تر خواتین، شہری آبادی اورزیادہ پڑھے لکھے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ موٹاپے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تمام بیماریوں کی جڑ ہے۔سلم سمارٹ  ہونا نہ صرف انسا ن کی شخصیت کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ اس میں صحت کے بھی ہزاروں فائدے چھپے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ موٹاپا آخر ہے کیا؟

 

موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

ہماری خوراک دراصل ہمارے جسم کے لئے توانائی کا واحد ذریعہ ہے ۔ انسان کا جسم اس توانائی کے حصول اور اس کے استعمال کے درمیان توازن رکھنے پر ہی  بہترین حالت میں کام کرتا ہے۔ ہم ہر دن جسمانی کام کاج، ورزش، چلنے پھرنے  اور جسم کے اندرونی اعضاء کی معمول کی سرگرمیوں کے لئے اپنی توانائی استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہماری خوراک  جسم کی توانائی کی ضرورت سے زیادہ ہو توجسم فاضل خوراک کو چربی کی صورت میں ذخیرہ کر لیتا ہے۔ اگر لمبے عرصے تک انسان جسم کی ضروت سے زیادہ خوراک لیتا رہے اور اس کے مقابلے میں ورزش یا دیگر جسمانی کام نہ کرے تو یہ چربی جمع ہوتے ہوتے موٹاپے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

 

کتنے وزن پر انسان میڈیکل سائنس کی زبان میں موٹاپے کا شکار کہلاتا ہے؟

ہمارے معاشرے میں موٹاپے کے اس قدر عام ہونے کی کئی مختلف وجوہات ہیں۔ عموما لوگ جانتے ہی نہیں کہ کن عادات کے باعث انسان آہستہ آہستہ موٹاپے کی طرف بڑھتا ہے۔ کچھ لوگ موٹا ہونے کے باوجود بھی خود کو موٹا نہیں سمجھتے۔ موٹا ہونے کو ہمارے ہاں عام زبان میں 'صحت مند ' ہونا سمجھا جاتا ہے، جو کہ حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔  جب یہ صحت مند حضرات اپنا وزن گھٹانے کی کوشش بھی کریں تو نانی اور دادی کی 'میرا بچہ کمزور ہو گیا' کی گردان ان کے جاگنگ پر جاتے قدموں کی بیڑیاں بن جاتی ہے۔غرضیکہ لوگوں میں اس بارے میں آگاہی بہت کم ہے کہ وزن کس قدر بڑھنے پر اس کو موٹاپے میں شمار کیا جاتا ہے؟  یہ جاننے کے لئے ہم پہلے بی ایم آئی یا Body Mass Index کے بارے میں جانیں گے۔

 
بی ایم آئی کیا ہے؟

موٹا پا صحت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے ۔ میڈیکل سائنس  وزن کو ایک خاص حد سے کم رکھنے کی تلقین کرتی ہے چونکہ ہر انسان کی جسامت میں فرق ہوتا ہے، اس لئے وزن کی یہ حد بھی سب کے لئے  مختلف ہوتی ہے۔ وزن کی یہ حد بی ایم آئی سے نکالی جاتی ہے ۔  بی ایم آئی دراصل انسان کے وزن اور قد کی شرح ہوتی ہے۔ اگر یہ شرح  ۲۳ سے زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انسان موٹاپے کا شکار ہے ۔ایسے انسان کے لئَےموٹاپے کے باعث ہونے والی پیچیدگیوں اور بیماریوں کاشکار ہونے کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے۔

اگر آپ کا بی ایم آئی  ۲۳ سے زیادہ آیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو وزن کم کرنے کی ضرورت ہے۔ بی ایم آئی جتنا زیادہ ہو، شوگر اور بلڈ پریشر لاحق ہونے کے امکانات اتنےہی  بڑھ جاتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *