کٹ، خراشیں اور معمولی زخموں کا علاج
امراض،جلد کے امراض

کٹ، خراشیں اور معمولی زخموں کا علاج

روز مرہ زندگی میں جلد کے اوپر معمولی خراش اور کٹ وغیرہ آنا بہت عام بات ہے۔ لہذا یہ جاننا ضروری ہے کہ اپنے یا اپنے گھر کے افراد کے خراشوں سے متاثر ہونے کی صورت میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے۔

اگرچہ معمولی خراش اور زخم کسی بھی عمر کے فرد کو ہو سکتے ہیں، لیکن عموما بچوں میں یہ چھوٹے موٹے زخم ہونے کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹریفک حادثے، جھگڑے یا باریک آلات مثلا چھری وغیرہ کا استعمال بھی ان زخموں کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔

ان معمولی زخموں اور خراشوں کے علاج کے مختلف طریقے موجود ہیں۔ اگر متاثرہ جلد کو صاف رکھا جائے، تو یہ زخم خود بخود ہی بھر جاتے ہیں۔ان خراشوں کو گھر پر ہی تشخیص کیا جا سکتا ہے اور ان کے علاج کا مناسب بندوبست کیا جا سکتا ہے۔

 

معمولی زخم یا خراش کی صورت میں

   زخم سے متاثرہ حصے کو پانی سے اچھی طرح دھویں، تاکہ اوپر لگی مٹی صاف ہوجائے

   حسب ضرورت زخم کے اوپر جراثیم کش سلوشن کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسے کہ سپریٹ وغیرہ

   اگر زخم سے خون رس رہا ہے، تو متاثرہ حصے پر ہاتھ کے ذریعے مناسب دباؤ برقرار رکھیں

   زخم کو پٹی یا مرہم کے ذریعے ڈھانپا بھی جا سکتا ہے

   اگر مرہم پٹی گیلی ہو جائے, تو اس کو اتار کر نئی پٹی استعمال کریں

   اگر زخم پہلے ہی سوکھ چکا ہے، تو پٹی کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے

   زخم کا روزانہ معائنہ کریں

   اگر زخم والی جگہ پر سوزش، شدید درد یا پیپ نمودار ہو رہی ہے تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں

 

معمولی زخموں اور خراشوں کے علاج کے لیے مختلف ادویات بآسانی دستیاب ہیں، جیسے کہ:

   جراثیم کش سلوشن، جو زخم پر لگایا جا سکتا ہے

   درد کش ادویات اور سپرے وغیرہ

   مرہم پٹی اور پلاسٹ وغیرہ

 

 

ٹیٹنس

اگر زخم گھر سے باہر کسی سڑک وغیرہ پر گرنے سے ہوا ہے، یا کسی ایسی جگہ پر ہوا ہے جہاں جانوروں کی آمد و رفت معمول ہے، تو ضروری ہے کہ "ٹیٹنس" نامی بیماری سے بچاؤ کو ممکن بنایا جائے۔ ٹیٹنس ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا مرض ثابت ہو سکتا ہے، لہذا اس صورتحال میں بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے ۔ڈاکٹر متاثرہ فرد اور زخم کی کیفیت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ٹیٹنس کی ویکسین لگانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

 

ہسپتال کب جائیں؟

مندرجہ ذیل صورت حال میں ڈاکٹر سے رجوع کریں یا ہسپتال کا رخ کریں:

   اگر زخم سے زیادہ مقدار میں خون بہہ رہا ہو یا دباؤ ڈالنے کے باوجود بھی خون کا دباؤ نہ رک رہا ہو

   اگر جلد کے اندر کوئی چیز داخل ہو کر پھنس گئی ہے، جیسے کانٹا وغیرہ

   اگر زخم مریض کی گردن یا چہرے پر ہے

   زخم کسی جانور یا انسان کے کاٹنے کے باعث ہوا ہے

   اگر زخم جلنے کے باعث یا بجلی کے کرنٹ سے ہوا ہے

   زخم  ایک انچ سے زیادہ بڑا ہے یا گہرا ہے

 

زیادہ تر معمولی زخم اور خراش وغیرہ خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ زخم متاثرہ جلد پر نشان یا داغ چھوڑ جاتے ہیں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *