کورونا وائرس
امراض،متعدی امراض

کورونا وائرس

11 July, 2020

آج کل کرونا وائرس کو لے کر پوری دنیا میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے. یہ وائرس تیزی سے لوگوں میں پھیلتا ہے اور روزانہ ہزارو‍ں لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں. عام لوگوں سے لے کر حکومتیں تک اس سے خوفزدہ ہیں. لوگوں کے ذہنوں میں اس وائرس کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب ہم یہاں دینے کی کوشش کریں گے.

 

وائرس کیا ہے

وائرس ایک خاص قسم کا جراثیم ہوتا ہے جو انسان کے جسم کے خلیوں کے اندر داخل ہو کر بیماری پھیلاتا ہے۔ وائرس سے ہونے والی مہلک  بیماریوں میں پولیو، گردن توڑ بخار ، ڈینگی، چکنگنیا، ایبولا اور ماضی میں پائی جانے والی چیچک شامل ہیں۔ ان بیماریوں کے برعکس ہیضہ اور فلووائرس سے ہونے والی نسبتا عام اور کم مہلک بیماریاں ہیں۔

 

کورونا وائرس

 کورونا وائرس فلو کا سبب بننے والی وائرس کی ایک نسل ہے۔ اس نسل میں مختلف وائرس شامل ہیں جو ماضی اور موجودہ زمانے میں فلو اور سانس کی بیماریوں کا باعث بنے ہیں۔   فلو پھیلانے والے اکثر وائرس اپنی ساخت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب ایک خاض ساخت کا وائرس لوگوں میں بہت زیادہ پھیل جائے تو لوگوں میں اس کے خلاف رفتہ رفتہ قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے اور اس سے پھیلنے والی بیماری کے جسم پر اثرات کی شدت اور مدت دونوں کم ہوجاتے ہیں۔ ہر چند سال بعد فلو پھیلانے والے ان وائرسوں میں سے کسی ایک کی ساخت میں قدرتا اس قدر تبدیلی آجاتی ہے کہ انسانی جسم کا مدافعتی نظام اس کو پہچان کر اس سے لڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ انسان اور وائرس کی جنگ میں وائرس ایک ایسا ہتھیار لے آتا ہے جس کا توڑ ابھی تک انسان جسم کے پاس نہیں ہوتا۔ اس قسم کے نئے وائرس کے دنیا میں پھیلنے سے وبائیں جنم لیتی ہیں۔

 

 2019 کا کورونا عام فلو سے کیسے مختلف ہے

 2019 میں چین سے نمودار ہونے والا کورونا وائرس دنیا کا پہلا کورونا وائرس نہیں ہے بلکہ کورونا وائرس کی ایک نئی قسم ہے۔ یہ وائرس چین کے صوبے ووہان میں پہلی دفعہ انسانوں میں پھیلا ہے۔ عام فلو کے اکثر وائرس کے خلاف لوگوں میں قوت مدافعت ہوتی ہے جبکہ اس نئے کورونا وائرس کے خلاف انسانوں میں مدافعت موجود نہیں ہے۔ عام فلو اور اس وائرس میں ایک اور فرق یہ بھی ہے کہ عام فلو ناک اور حلق کے انفیکشن کا موجب ہوتا ہے جبکہ کورونا وائرس ان جگہوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کا انفیکشن یا نمونیا کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ناک اور حلق کے انفیکشن کے مقابلے میں نمونیا جان لیوا ہو سکتا ہے۔

 

یہ ایک شخص سے دوسرے شخص تک کیسے پھیلتا ہے؟

عام فلو کی طرح کورونا بھِی ایک انسان سے دوسرے انسان تک کھانسنے اور چھینکنے سے پھیلتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کو شبہ ہے کہ جب لوگ چھینکتے اور کھانستے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھنے کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں تو یہ وائرس ہاتھوں سے دوسرے انسان تک منتقل ہو جاتا ہے۔

 

کورونا وائرس کی علامات

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، کورونا وائرس فلو اور نمونیا دونوں کا باعث بن سکتا ہے۔ فلو ناک اور حلق کا انفیکشن ہوتا ہے۔ فلو کی علامات میں ناک بہنا ، چھینکیں آنا، کھانسی اور گلے کی خراش شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بخار اور جسم میں درد کی علامات بھِی ہوسکتی ہیں۔

 جب وائرس حلق کے راستے پھیپھڑوں تک پہنچ جائے تو یہ نمونیا کا باعث بن سکتا ہے جسم میں انسان کا سانس لینے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ہو سکتی ہے اور انسان کو دم گھٹنے  کا احساس ہوتا ہے۔ نمونیا کی دیگر علامات فلو جیسی ہی ہوتی ہیں مگر ان کی شدت عام فلو سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کورونا سے متاثر  80  فیصد لوگوں کو محض فلو کی بیماری ہوتی ہے جبکہ صرف بیس فیصد لوگوں کو نمونیا ہوتا ہے۔ نمونیا کا شکار اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا جسم اور پھیپھڑے پہلے سے کمزور ہوں۔ ان میں بوڑھے لوگ، دمہ کے مریض، سگریٹ نوشی کرنے والے اور دوسری موذی بیماریوں میں مبتلا لوگ شامل ہیں۔ 

 

کورونا کا علاج

وآئرس سے ہونے والی اکثر بیماریوں میں جو دوائیں دی جاتی ہیں، ان کا مقصد وائرس کو مارنا نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی علامات کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر وائرس انسان کے جسم کے خلیوں کے اندر چھپ کر وار کرتے ہیں اور جراثیم کش دوائیاں ان تک پہنچ نہیں پاتیں۔ کورونا سے پیدا ہونے والے فلو کے لئے اکثر علاج کی ضرورت نہیں پیش آتی ۔ کورونا سے ہونے والے نمونیا کے علاج میں بخار کی ادویات، پانی اورنمکیات کی ڈرپ، سانس بہتر کرنے کے لئے آکسیجن کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔

 

کیا یہ جان لیوا ہے؟

جن لوگوں میں کورونا صرف فلو یا کم شدت کے نمونیا کا باعث بنے، وہ چند دنوں سے لے کر چند ہفتوں تک مکمل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں میں نمونیا پھیپھِڑوں کو بہت زیادہ متاثر کر دے، ان کو وینٹیلٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور ایسی صورتحال میں یہ مرض جان لیوا ہو سکتا ہے۔

 

احتیاط

اس وقت پاکستان میں کورونا کے بہت کم کیس ہیں ۔ مگر چونکہ اکثر لوگوں میں یہ وائرس بہت کم علامات کا موجب بنتا ہے، اس لئے کل کیس معلوم تعداد سے بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی کو اگر فلو جیسی علامات ہوں تو کورونا کا ٹیسٹ لازمی کرانا چاہیے اور تشخیص کی صورت میں فورا قریبی بڑے ہسپتال میں قائم کورونا کے علاج کے مرکز سے رجوع کرنا اہم ہے۔ متاثرہ لوگوں کو دو ہفتے کے لئے عام لوگوں سے الگ رکھا جاتا ہے تا کہ  وائرس عوام میں نہ پھیلے۔ اس کے علاوہ  جن لوگوں کو علامات نہ بھی ہوں، ان کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ان میں کھانستے اور چھینکتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھنا اور اس کے فورا بعد ہاتھ دھونا شامل ہیں۔

 

امید ہے اس آرٹیکل میں ہمارے قارئین کو کورونا سے متعلق مفید معلومات ملی ہوں گی۔ اپنی آراء اور سوالات ہم تک پہنچانے کے لئے اس آرٹیکل پر کمینٹ کریں۔ شکریہ۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *