ڈپریشن
امراض،نفسیاتی امراض

ڈپریشن

02 July, 2020

ڈپریشن کا نام ہم سب نے سن رکھا ہے۔ ہماری روز مرہ کی گفتگو میں ڈپریشن موڈ کی خرابی یا اداسی کو کہا جاتا ہے۔ البتہ میڈیکل زبان میں ڈپریشن ایک مرض کا نام ہے جس کی تشخیص کے لئے چند خاص علامات کا ہونا لازم ہے۔


ڈپریشن کے بارے میں یہ بات تو بالکل درست ہے کہ اس میں سب سے بڑی شکایت اداسی یا نا خوشی کی کیفیت ہے۔ اس کا شکار انسان مایوسی اور اداسی کی دلدل میں ایسا پھنستا ہے کہ خود کو جیسے مرضی دلاسہ دینے کی کوشش کرے ، ڈپریشن کی اندھیری دنیا سے باہر نہیں نکل پاتا۔ جو چیزیں عام حالات میں انسان کو خوشی پہنچاتی تھیں، وہ سب کی سب بے معنی لگنے لگتی ہیں۔ جب کوئی انسان اس کیفیت سے کئی ہفتوں تک باہر نہ آپائے تو اس وقت ڈپریشن کی بیماری تشخیص کی جاتی ہے۔


آج کل کے زمانے میں ہر انسان ہی اداسی اور مایوسی کا شکار نظر آتا ہے تو کیا ہم سب ہی ڈپریشن کے مریض ہیں؟ یہ بڑا ہی دلچسپ سوال ہے کہ کسی کی اداسی کو ماپا کیسے جاتا ہے؟ کیسے فرق کیا جاتا ہے کہ کسے ڈپریشن ہے اور کون بس معمولی ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہا ہے؟


سب سے بڑی چیز جو ڈپریشن کو بے ضرر ذہنی تناؤ سے الگ کرتی ہے وہ زندگی کے کاموں میں اس کی کارکردگی ہے۔ڈپریشن کا شکار انسان منفی خیالات کے باعث اپنے پیشے ،نوکری یا کاروبار پر توجہ نہیں دے پاتا۔ اس کی وجہ سے اسے اپنے کام میں مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات کام کی نسبت انسان کی ذاتی زندگی ڈپریشن سے زیادہ متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔ ایے حالات میں انسان اپنے گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر اپنے تعلقات خراب کررہا ہوتا ہے۔ جب منفی خیالات اور مایوسی اس حد تک بڑھ جائے کہ انسان کا کام یا ذاتی زندگی داؤ پر لگ جائیں تو ایسے حالات میں اس کو معمولی ذہنی تناؤ کہہ کر سر جھٹکا نہیں جا سکتابلکہ اسکا علاج ضروری ہو جاتا ہے۔

 

ڈپریشن کی نفسیاتی علامات

ڈپریشن کا مریض مایوسی اور ناخوشی کے علاوہ چند اور نفسیاتی مسائل  کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات ماضی کے کچھ تجربات یا فیصلوں پر شدید احساس ندامت یا احساس جرم ہوتا ہے۔  اس کے علاوہ کسی بھی کام میں ذہن نہ ٹکنے اور بار بار دماغ منفی خیالات کی طرف بھٹک جانے  کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ جب مرض شدید ہو جائے تو انسان ان منفی خیالات کے تابع ہو کر خود کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے خیالات خطرے کی گھنٹی سمجھے جاتے ہیں اور ایسی صورتحال میں انسان کو فورا اپنے عزیزوں یا معالجین سے مدد مانگنی چاہئیے۔

 

ڈپریشن کی جسمانی علامات

ڈپریشن نفسیاتی علامات کے ساتھ ساتھ جسمانی علامات بھی ظاہر کر سکتی ہے۔ ان میں بھوک اور نیند میں کمی یا زیادتی ، ضرورت سے زیادہ تھکاوٹ، کمزوری کا احساس شامل ہیں۔ بعض لوگوں کو ہاضمے میں کمزوری یا اسہال )موشن(  کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

 

ڈپریشن کا علاج کیسے کیا جائے؟

ڈپریشن کا علاج فیملی ڈاکٹر کر سکتے ہیں لیکن اگر علامات بہت شدید ہو جائیں اور نفسیاتی مسائل بڑھنے لگیں تو ماہر نفسیات یا سائیکائٹرسٹ سے مشورہ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

ڈپریشن کے علاج کے لئے دو طریقے الگ الگ یا بیک وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا طریقہ دوائیوں کا استعمال ہے۔ ڈپریشن کے لئے دی جانے والی دوائیاں اثر دکھانے میں چند ہفتے لیتی ہیں اور آہستہ آہستہ انسان کے مزاج کو بہتر بنانے لگتی ہیں۔ علامات  بہتر ہو جانے کے بعد بھی چھے مہینے سے ایک سال تک ان ادویات کا استعمال کرنا لازمی ہوتا ہے ورنہ علامات واپس آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

علاج کا دوسرا طریقہ سائیکو تھراپی ہے۔ اس طریقہ میں مریض ماہر نفسیات سے اپنے خوف ، خدشات اور دیگر جذبات پر بات کرتا ہے اور ماہر نفسیات ان مسائل سے نمٹنے کے لئے مریض کو مشورہ دینے کے ساتھ ساتھ زندگی کی ایک مثبت تصویر دکھانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔  

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *