پولیو مہم کے بارے میں شکوک و شبہات
صحتمند زندگی،بیماریوں سے بچاؤ

پولیو مہم کے بارے میں شکوک و شبہات

02 July, 2020

پولیو مہم کا مقصد

پولیو ایک چھوتی مرض  ہے جو وائرس سے پھیلتا ہے ۔ پولیو سے  ایک بھی انسان کے متاثر ہونے سے ان گنت دوسرے لوگوں کو مرض لگنے کا خطرہ رہتاہے۔ اگر تمام بچوں کو ویکسین لگادی جائے تو وائرس کسی بھی انسان کو متاثر نہیں کر پائے گا اور اس وائرس کی نسل دنیا سے ختم ہو جائے گی۔ ماضی میں یہ چیچک یعنی small pox کے وائرس کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔ نتیجے میں دنیا میں پچھلی کئی دہائیوں میں ایک بھی چیچک کا کیس سامنے نہیں آیا۔


پاکستان سب سے پیچھے!

 دنیا میں تین ممالک جن میں پاکستان افغانستان اور نائجیریا شامل ہیں، کے سوا ہر ملک میں ویکسین کی بدولت پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ان تین ممالک میں پولیو کے خاتمے کا ساتھ ہی پولیو کی نسل دنیا سے ختم ہو جائے گی۔ اس وجہ سے ان تین ممالک  بشمول پاکستان پر دنیا بھر کا دباؤ ہے کہ موثر اقدامات کے ذریعے یہ اپنی اپنی آبادی میں جلد از جلد پولیو کا خاتمہ کریں۔


ناکامی کی وجہ؟

پاکستان میں پولیو کا اب تک خاتمہ نہ ہو پانے کی سب سےبڑی وجہ لوگوں کا پولیو ویکسین پر عدم اعتماد ہے۔  حکومت پاکستان صحت کے عالمی اداروں کے ساتھ مل  کر پچھلی کئی دہائیوں سے گھر گھر پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلا رہی ہے مگر اس کے باوجود ہر سال ہزاروں بچے ویکسین لگنے سے رہ جاتے ہیں۔ پولیو کی ویکسین کے بارے میں عوام الناس میں بہت زیادہ شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان شکوک و شبہات کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کردیتے ہیں۔


پولیو کی ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات:

پولیو ویکسین میں ہارمون ملائے جاتے ہیں

پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ پولیو کی ویکسین میں ایک سازش کے تحت ہارمون اور دیگر کیمیکل ملائے جاتے ہیں جو بچوں کی صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بین الاقوامی قوتیں اس طرح سازش کر کے ہماری قوم کو بیمار کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیو کی ویکسین میں ایسا کوئی کیمیکل نہیں پایا جاتا۔ اس ویکسین کو ہماری حکومت اور عالمی اداروں کے نمائندے بھی کوالٹی کے لئے چیک کر کے تقسیم کرتے ہیں۔


پولیو ویکسین سے بانجھ پن ہوتا ہے

اسی طرح کا ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ پولیو میں اس طرح کے اجزا شامل ہیں جو بچوں خصوصاّ لڑکوں میں بانجھ پن کا باعث بنتے ہیں ۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں اس کے پیچھے بھی ایک عالمی سازش کارفرما ہے جو ہماری قوم کی نسل کشی کرنا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیو کے خاتمے میں پوری دنیا کے انسانوں کی بھلائی ہے اور اس کے باقی رہنے سے سب کو خطرہ لاحق رہے گا۔ مزید یہ کہ جدید سائنس بھی ایسے کسی کیمیکل کے بارے میں اب تک نہیں جانتی جس کی کچھ قطروں جتنی مقدار سے مستقل بانجھ پن ہو سکے۔ اس لئے یہ بات بھی سراسر غلط اور وہم پر مبنی ہے۔ 


پولیو ویکسین سے پولیو کا مرض ہو سکتا ہے

یوں تو شماریاتی اندازوں کے مطابق  دس لاکھ بچوں کو اگر پولیو ویکسین لگے تو ان میں سے ایک کو پولیو ہو سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ شرح اس قدر کم ہے کہ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ایسی صورتحال میں سائنسدان اور ڈاکٹر حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ پولیو کی ویکسین کو مکمل اطمینان سے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے مرض لاحق ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ 


پولیو ویکسین کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا

عوامی سطح پر پولیو ویکسین کی آگاہی کم ہونے کی وجہ سے کافی لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پولیو ویکسین ایک شوشہ ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس غلط فہمی کا ازالہ ہم نے اوپر پولیو ویکسین کے بارے میں چیدہ چیدہ معلومات دے کر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پولیو کی ویکسین نہ صرف آپکے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھتی ہے، بلکہ پوری دنیا کو اس مرض سے نجات دلانے کی طرف بہت بڑا قدم ہے۔ 

ایک باشعور معاشرے کے افراد ہونے کے ناطے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے ارد گرد تمام بچوں کو ویکسین لازمی لگوائیں۔


ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *