پان، چھالیہ اور گٹکا
صحتمند زندگی،منشیات

پان، چھالیہ اور گٹکا

05 November, 2020

پان، چھالیا  اور گٹکا پاکستان اور ایشیائی ممالک میں بڑے پیمانے پہ استعمال کئے جاتے ہیں اور کچھ علاقوں میں اس کو روایتی اور ثقافتی حیثیت حاصل ہے۔ ان چیزوں کو استعمال کرنے والے یہ مانتے ہیں کہ ان کا ذہن  پرمتحرکانہ اور  مزاج پر خوش گوار  اثر  ہوتا ہے۔اس کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے کچھ لوگ اس کو سانس کو خوشبودار بنانے کے لئے بھی چباتے ہیں اور یہاں تک کہ اس کو شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی بانٹا جاتا ہے۔  

 

بے دھواں تمباکونوشی کیا ہے؟

تمباکو والے پان، چھالیہ اور گٹکےکو کچھ لوگ بےدھواں   کی تمباکو نوشی بھی کہتے ہیں اور تحقیق  کے نتیجے میں اس کے کئی مضر صحت  اثرات پائے گئے ہیں۔ ان اشیاء میں بے شمار نقصان دہ کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو لمبہ عرصہ استعمال کے  بعد جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی  کی طرح پان، چھالیا اور گٹکا کھانا بھی ایک نشہ آور عادت ہے اور اس کو چھوڑنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ نیکوٹین (جو تمباکو میں پایا جاتا ہے) سگریٹ کے مقابلہ میں گٹکا اور چھالیا کھانے سے زیادہ جلدی اور زیادہ مقدار میں خون میں شامل ہوجاتا ہے ۔

 

دانتوں پر اثرات

عادت لگ جانے کے بعد مسلسل استعمال سے دانتوں کے اوپر اس کے منفی اثرات کچھ وقت کے بعد نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

   ان اشیاءکو کھانے کے لئے مسلسل چبانا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں دانتوں پہ بے حد زور پڑتا ہے اور ان کی اوپری سطح اترنا شروع ہو جاتی ہے۔

   ان اشیاء کو لمبے اوقات کے لئے چبانے سے تھوک منہ میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اسکا رنگ لال ہو جاتا ہے، جو دانتوں پہ لگ لگ کر انہیں بھی لال رنگت دے دیتا ہے۔ یہ  سرخ رنگ  سالوں سال برقرار رہتا ہے ۔

   مسوڑوں پربھی منفی اثرات مرتکب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کمزور ہو جانا،  ان سے خون بہنا اور  دانتوں کا نکل آنا ان کی کچھ امثال ہیں۔

   دیگر مسائل میں دانتوں کا گھس جانا (مسخ ہو جانا)  اور سڑنا شامل ہیں جو کھاتے پیتے وقت درد کا سبب بن سکتے ہیں۔  

 

منہ کا سرطان

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پان، چھالیا اور گٹکے کہ استعمال کی سب سے خطرناک  پیچیدگیوں میں منہ کا سرطان سر فہرست ہے۔ لا تعداد تحقیات میں یہ بات نمایاں ہے کہ ان اشیاء کے استعمال کرنے والوں میں  سرطان کا خدشہ استعمال نہ کرنے والوں سے واضح طور پر (آٹھ سے دس گنا تک)  زیادہ ہے۔ ان میں موجود کیمیکل میں سے تقریبا 28 ایسے بھی ہیں جو کینسر/سرطان کی وجہ بن سکتے ہیں۔  منہ کا سرطان ترقی پزیر ممالک میں کثیر تعداد میں پایا جانے لگا ہے اور مرد حضرات اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سرطان کافی سالوں کے استعمال سے ہوتا ہے لیکن اس کی کچھ علامات ابتدائی طور بھی نظر آسکتی ہیں۔ منہ کے سرطان کی چند ابتدائی علامات درج ذیل ہیں:

   منہ کی اندرونی  جلد پر، زبان پر یا حلق کے قریب سفید یا سرخ نہ ہٹنے والے چھالے پڑنا

   منہ کے اندر یا زبان پر گٹلی نمہ زخم  بننا

   منہ پورا کھولنے میں مشکل ہونا یا درد ہونا

   کھانا نگلنے یا بولنے میں شدید دشواری اور درد

شروع ہونے کے بعد جلد ہی منہ کا سرطان ایک رسولی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو جلد کو نگلنا شروع کردیتی ہے اور آہستہ آہستہ منہ کا مزید حصہ اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اگر یہ علامات موجود ہوں تو ڈاکٹر کو دکھانا بے حد ضروری ہے کیونکہ وقت پر علاج سے ہی مزید نقصان  اور موت سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے دوائیاں دی جا سکتی ہیں اور سرجری  یا آپریشن کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے، لیکن اس کا دارومدار بنیادی طور پر مریض کی حالت پر ہے۔

 

حاملہ خواتین  اور بچے  پر اثرات

کچھ تحقیقات کہ حساب سے ان اشیاء کا استعمال حاملہ خواتین کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ 

 

نوجوانوں پر اثرات

نوجوانوں میں اس عادت سے دل کی دھڑکن کی تیزی اور بلڈ پریشر  بڑھنے  جیسے علامات ظاہر ہو سکتے ہیں-  اسی طرح جسم کے مختلف اعضاء پر اس کا مختلف اثر پایا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق جاری ہے۔

 

سماجی زندگی پر اثرات

طبی اور جسمانی نقصانات کے ساتھ ساتھ پان، چھالیا اور گٹکے کے استعمال کے کچھ سماجی نقصانات بھی ہیں جن میں کچھ درج ذیل ہیں:

   دانتوں کی رنگت بدل جانا انسان کے چہرے کی خوبصورتی کو متاثر کرتا ہے۔

   مسلسل منہ میں کچھ چبانے سےبولنے اور بات چیت میں دشواری ہوتی ہے۔

   سماجی طور پر عام سرگرمی ہونے کے باوجود، کچھ لوگ پان یا گٹکا کھانے  کو ناپسند کرتے ہیں اور عوامی مقامات میں اس پر پابندی ہے۔

   پابندی کی ایک وجہ منہ میں  جمع ہونے والے لال پانی  تھوکنے سے عمارات، سڑکیں اور اشیاء خراب ہوجانا ہے۔

   اگر اس عادت کی پیچیدگی کے سبب منہ کا سرطان ہو جائے تو اس کو چھپایا نہیں جا سکتا اور یہ مریض کو ذہنی عذاب میں مبتلا کر سکتی ہے۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *