ٹی بی
امراض،متعدی امراض

ٹی بی

30 June, 2020

ٹی بی کیا ہے؟

ٹی بی ایک انسان سے دوسرے انسان کو بڑی سرعت سے لگنے والا چھوتی مرض ہے جو نسل انسانی کے لئے ہمیشہ سے ایک معمہ رہا ہے۔  اس کا جرثومہ جسم کے بہت سے حصوں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں اکثر جراثیم کش ادویات کے خلاف مدافعت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرض مریض کے لئے وبال جان اور معالجین کے لئے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ 

یوں تو ٹی بی کا جراثیم پھیپھڑوں ، ہڈیوں ، آنتوں اور دماغ کی جھلیوں سمیت کئی دیگر اعضاء کو متاثر کر سکتا ہے مگر تقریبا تمام مریضوں میں یہ مرض سانس کے راستے پہنچتا ہے۔ اسی لئے یہ سب سے پہلے انسان کے پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی ، ٹی بی کی باقی تمام اقسام سے کہیں زیادہ پائی جاتی ہے۔ 


جراثیم کا اثر

ٹی بی کے جراثیم جسم میں آہستہ آہستہ پھیلتے ہیں ۔ کسی بھی عضو میں ان کی موجودگی کے رد عمل میں جسم کا مدافعتی نظام تیزی سے حرکت میں آتا ہے اور جراثیم کے ساتھ ساتھ ان انسانی خلیوں کو بھی نشانہ بناتا ہے جن میں یہ جراثیم چھپے ہوتے ہیں۔ جراثیم اور مدافعتی نظام کی یہ  رسہ کشی اکثر  غیر فیصلہ کن ہوتی ہے۔ جراثیم انفیکشن کے مرکز میں چھپے رہتے ہیں اور مدافعتی نظام ان کے گرد ایک دیوار سی بنا لیتا ہے۔ مستقبل میں اگر کسی بھی وقت جسم پر کوئی دباو پڑے  تو اس دیوار میں کمزوری آ جاتی ہے اور مرض کو جسم میں پھیلنے کے راستہ مل جاتا ہے۔ 

اس ساری کشمکش میں انسان کا جسم دہرہ نقصان اٹھاتا ہے۔ جراثیم کے بالواسطہ اثرات کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام کے  اپنے ہی متاثرہ خلیوں پر حملے سے پھیپھڑے یا دوسرے متاثرہ اعضاء میں زخم بنتے چلے جاتے ہیں۔ اگر جسم کا مدافعتی نظام بہت کمزور ہو جائے تو مرض جسم کے بہت سے حصوں میں بیک وقت حملہ آور ہو سکتا ہے اور بہت سرعت سے اعضاء کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔ 


علامات

ٹی بی کی تمام اقسام میں یہ علامات ایک سی ہوتی ہیں:

۱۔ ہلکا بخار جو عموما شام کے وقت ہوتا ہے

۲۔بھوک کم لگنا

۳۔ وزن کم ہونا


  • پھیپھڑوں کی ٹی بی میں سب سے نمایاں چیز کئی ہفتوں یا مہینوں تک چلنے والی کھانسی ہے ۔ یہ کھانسی عموما  صبح اور شام کے وقت زیادہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ پیلے رنگ کا بلغم خارج ہوتا ہے جس میں بعض اوقات خون کے قطرے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ 

  • آنتوں کی ٹی بی میں مریض کو لمبے عرصے کے لئے  قبض اور پیٹ میں درد کی شکایات ہوتی ہیں۔ 

  • ہڈیوں کی ٹی بی عام طور پر کمر کے مہروں کو متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے کمر میں خم آ سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ کمر میں شدید درد کی شکایت بھی پائی جاتی ہے۔ 


جراثیم کا پھیلاؤ

ٹی بی کا جراثیم تمام چھوتی بیماریوں میں سب سے تیزی اور آسانی سے پھیلنے والا جراثیم ہے۔ جراثیم پھیپھڑوں کی ٹی بی میں مبتلا افراد کے کھانسنے سے ہوا میں پھیلتے ہیں۔ ایک دفع اگر مریض کھانسے تو جراثیم کئی گھنٹوں تک کمرے کی فضا میں معلق رہ سکتے ہیں اور سانس کے راستے کمرے میں موجود دوسرے افراد میں منتقل ہو سکتے ہیں ۔ یہ جراثیم اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ عام سرجیکل ماسک کے سوراخوں سے آرام سے گزر جاتے ہیں۔ ان کو ہوامیں پھیلنے سے روکنے کے لئے مریض کو ایک خاص قسم کے ماسک جس کو N-95کہا جاتا ہے، استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ 


علاج

ٹی بی کا جراثیم بہت سخت جان ہوتا ہے۔ اس میں انسان کے خلیوں میں چھپنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور جسم کا  مدافعتی نظام اور جراثیم کش ادویات یا انٹی بائیوٹیک دوائیاں بھی اس تک بہت مشکل سے پہنچ پاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے جراثیم اپنی ساخت کو تبدیل کرتے ہوئے اور نئی ادویات کے خلاف دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر ٹی بی کا علاج ممکن ہوتے ہوئے بھی کافی مشکل ہے۔ جراثیم پر بھر پور حملہ کرنے کے لئے ڈاکٹر بیک وقت چار سے پانچ ادویات سے اس کا علاج کرتے ہیں اور جسم میں چھپے ہوئے جراثیم کے صفائے کے لئے لمبے عرصے تک دوائیاں لینے کی تجویز دیتے ہیں۔ علاج کو چھے مہینے سے ایک سال تک جاری رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 


پیچیدگیاں

ٹی بی کے مرض کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ متاثرہ اعضاء کو ناکارہ کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کے باقی حصوں میں بھی پھیل سکتا ہے جس سے اس کاعلاج بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پھیپھڑوں میں جگہ جگہ زخم بننے سے مریض کو باقی زندگی کے لیے سانس کی تکلیف لاحق ہو سکتی ہے۔ 

چونکہ ٹی بی کا علاج  لمبا ہوتا ہے، اس لئے کئی مریض علاج درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ایک پیچیدگی یہ ہوتی ہے کہ جراثیم ٹی بی کی مخصوص دوائیوں کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتے ہیں۔ ان مدافعت والے جراثیم کو مارنے کے لئے بہت کم دوائیاں موجود ہیں اور وہ بھی اتنی اثر انگیز نہیں۔ایسے مریضوں کا مرض تقریبا لاعلاج بن سکتا ہے، اس لئے ٹی بی کا علاج شروع کر کے مکمل کرنا بہت ضروری ہے۔ 


ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *