ٹیکا لگواتے ہوئے احتیاط کریں!
صحتمند زندگی،منشیات

ٹیکا لگواتے ہوئے احتیاط کریں!

08 December, 2021

انجیکشن لگنا طبی شعبہ میں روز مرہ کا کام ہے۔ اس عمل کو کئی مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے، جیسے کے:

   اینٹی بائیوٹیک یا درد کی دوا کو فوری طور پر خون میں پہنچانا

   ذیابیطس کے مریضوں کو انسولن لگانا

   تشخیص کے لئے خون یا کسی عضو کا نمونہ لینا

انجیکشن کے تین اہم حصے ہوتے ہیں: سوئی، بیرل (جس میں دوا ہوتی ہے یا نمونہ لیا جاتا ہے) اور پلنجر (جس کی مدد سے سرنج میں کوئی چیز لی یا نکالی جاتی ہے)۔ اس کا سوئی والا حصہ نوکیلا ہوتا ہے، جس کو جلد کے نیچے اتارا جاتا ہے۔

 

انجیکشن کے غلط استعمال سے بیماریاں کیسے پھیلتی ہیں؟

کچھ بیماریوں کے جراثیم خون یا جسم کے دیگر بہنے والے مادوں میں موجود ہوتے ہیں اور اگر یہ کسی اور کے جسم میں داخل ہو جائیں تو وہی بیماری ان کو بھی لگ سکتی ہے۔ اگر ایک بیمار شخص کو کسی بھی وجہ سے انجیکشن لگایا جائے تو سوئی والا حصہ خون آلود ہو جاتا ہے، اور وہی انجیکشن صحت مند انسان کو لگا کر ہم اسے بیمار کر سکتے ہیں۔ اسی لئے انجیکشن کے استعمال کے دوران ہسپتالوں اور گھروں میں احتیاطی تدابیر پر عمل لازمی ہے ورنہ اس سے کئی بیماریاں پھیل سکتی ہیں، جس سے انجیکشن لگانے والے (عموماً ڈاکٹر یا نرس) اور جس کو انجیکشن لگ رہا ہے، دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

 

انجیکشن لگاتے وقت بے احتیاطی سے کونسی بیماریاں لگ سکتی ہیں؟

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی  ٹیکوں کے غلط استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کا تذکرہ ہو تو سر فہرست تین بیماریاں ہیں:

   ہیپاٹائٹس بی

   ہیپاٹائٹس سی

   ایچ-آئی-وی (ایڈز)

 ہیپاٹائٹس بی اور سی

یہ دونوں بیماریاں جگر پر اثر کرتی ہیں۔ ان سے عام طور پر جگر میں سوزش ہوتی ہے جس سے کئی علامات رونما ہوتی ہیں، جیسے

   تیز بخار،

   پیٹ میں ورم،

   جلد اور آنکھوں کا زرد رنگ پکڑنا (یرقان)

   پیٹ میں دائیں طرف درد۔

ہیپاٹائٹس کا وقت پر علاج نہ کروانے سے جگر کی دائمی بیماری ہو سکتی ہے۔  اگر کوئی شخص ان بیماریوں سے متاثر ہے تو اس کی استعمال کی جانے والی انجیکشن لگنے سے کوئی اور بیمار ہو سکتا ہے۔

 

ایچ-آئی-وی (ایڈز)

اس وائرس کے لگنے سے ایڈز نامی مرض ہو سکتا ہے لیکن ایچ-آئی-وی ہر صورت ایڈز نہیں کرتا۔ یہ وائرس کسی متاثرہ شخص (ایچ-آئی-وی پازیٹو) کے ساتھ جنسی تعلقات یا اس کی استعمال کی ہوئی انجیکشن سے لگ سکتا ہے۔ شروع میں وائرس لگنے کے بظاہر کوئی خاص علامات نہیں ہوتے اور ایک ایچ-آئی-وی پازیٹو شخص سالوں سال اس سے لا علم رہ سکتا ہے، البتہ ممکن ہے کہ کچھ سالوں میں ایڈز ہو جائے۔ ایڈز سے انسان کا قوتِ مدافعت انتہائی کمزور ہو جاتا ہے اور عام بیماریاں (جیسے نمونیا، ٹی بی) بھی جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔

 

انجیکشن کے استعمال کے لئے احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟

   ہر مریض کو الگ انجیکشن لگایا جائے اور کسی صورت بھی ایک ہی انجیکشن کو دوبارہ استعمال نہ کیا جائے۔

   دوائی کی بوتل سے استعمال شدہ انجیکشن  کی مدد سے دوائی نہ نکالی جائے۔

   اگر ضرورت نہ ہو تو انجیکشن نہ لگایا جائے۔

   انجیکشن لگانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں کی صفائی کا خاص طور پر خیال کیا جائے۔ طبی ماہرین کو ہاتھوں میں دستانے استعمال کرنے چاہیے، اور ایک مریض سے دوسرے مریض کے درمیان دستانے تبدیل کر کے ہاتھ دھونے چاہیں۔

   اگر استعمال کے دوران انجیکشن گر جائے یا انجیکشن ظاہری طور پر گندا ہو تو ہر گز استعمال نہ کیا جائے۔

   انجیکشن لگاتے وقت اگر خون بہنے لگے تو اسے جلد از جلد صاف کر دینا چاہیے تاکہ کوئی اور آلہ خون آلود نہ ہو۔ 

   اگر انسولین کی پین استعمال کی جا رہی ہے تو ایک ذیابیطس کے مریض کے لئے ہی ایک پین مختص کر کے استعمال کی جائے۔

   استعمال کے بعد انجیکشن (خاص طور پر سوئی کا حصہ) صحیح طرح سے پھینکنا بھی ضروری ہے۔ ہسپتالوں میں شارپ کنٹینر  نامی ڈبہ موجود ہوتا ہے جس میں ان کو صرف کر دینا چاہیے۔ استعمال شدہ انجیکشن کو عام کچرے میں نہ پھینکا جائے کیونکہ یہ کچرا کنڈیوں میں عام شہریوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔


ڈاکٹروں اور نرسوں کو کس بات کا خاص خیال کرنا چاہیے؟

انجیکشن سے لگنے والی بیماریوں سے طبّی عملہ کے متاثر ہونے کے خدشات عام عوام سے زیادہ ہیں۔ غلطی سے استعمال شدہ سوئی کے چبھ جانے سے ان کو بیماریاں لگ سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے انجیکشن لگاتے وقت اور خاص کر سوئی کو واپس ڈھکنے کے دوران ان کو اپنی حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ دستانوں کا استعمال اور ہاتھوں کو دھونے سے مریضوں کے ساتھ ساتھ طبّی عملہ بھی محفوظ رہتا ہے۔ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو ڈاکٹر اپنے ہسپتال یا کلینک سے رہنمائی طلب کر کے مناسب دوائی حاصل کریں۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *