وزن کیسے کم کیا جائے؟
خوراک،موٹاپا

وزن کیسے کم کیا جائے؟

02 July, 2020

 

موٹاپے سے بچاؤ اور اس کا علاج ہمیشہ ہمارے سماجی حلقوں میں زیر بحث رہا ہے۔ صدیوں سے آزمائے گئے ٹوٹکوں سے لے کر لیبارٹریوں میں بنی جادوئی بیلٹوں تک ، سب ہی موٹاپے کا علاج کرنے کے دعویدار نظر آتے ہیں۔ خصوصاَ نوجوان اور خواتین وزن گھٹانے کے لئے ہر طرح کے  جتن کرتے ہیں ۔ ٹی وی ، اخبار اور انٹرنیٹ پر اشتہارات دیکھ کر عجیب و غریب وزن گھٹانے والی مصنوعات منگوائی جاتی  ہیں۔ حکیموں کے بنائے ہوئے معجون استعمال کیے جاتے ہیں۔ یو ٹیوب پر موجود فراڈ  اور جھوٹ پر مبنی ٹوٹکے ،جو صرف ویوز لینے  کا ایک طریقہ ہوتے ہیں،بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر  کوششیں بے اثر ثابت ہوتی ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت اور  پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات ایسی چیزیں صحت کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔

آج ہم موٹاپے کو کم کرنے کے بے ضرر اور  موثر طریقوں کے بارے میں اپنے قارئین کو آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے۔اس کے لئے ہم اپنے پچھلے کالموں میں کی گئی چند باتوں کو بھی دہرائیں گے۔

 

خوراک ،ورزش اور موٹاپا

چونکہ موٹاپا جسم کی ضرورت سے زیادہ خوراک کے استعمال کے باعث ہوتا ہے، اس لئے وزن کم کرنے کے طریقوں کو بھی دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1.     ایک قسم وہ جس میں ہم اپنی خوراک کو اس طریقے سے تبدیل کرتے ہیں کہ اس سے حاصل ہونے والی توانائی کم سے کم ہو  اور جسم روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چربی کو پگھلا کر توانائی حاصل کرلے۔اس طریقے کو عرف عام میں ڈائٹنگ کا نام دیا جاتا ہے۔

2.     دوسرے طریقے وہ ہیں جن میں ہم ورزش اور جسمانی مشقت کے ذریعے توانائی کی ضرورت کو اس قدر بڑھا لیتے ہیں کہ جسم کو مجبورا چربی کو پگھلانا پڑتا ہے۔

وزن کو موثر طریقے سے کم کرنے کے لئے ان دونوں اقسام کے طریقے ایک ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں۔ جب جسم کو ہر روز فراہم ہونے والی توانائی  اس کی ضرورت سے بہت کم رہ جاتی ہے تو چربی بہت تیزی سے پگھلنے لگتی ہے۔ اس توانائی کو عموما کیلوریز  میں ماپا جاتا ہے۔

 

دل کی رفتار بڑھانے والی ورزشیں

جسم کو چلنے پھرنے اور بھاگنے دوڑنے کے لئے بہت زیادہ توانائی چاہئیے ہوتی ہے۔  جب انسان تیزی سے اپنے ہاتھ پیر ہلاتا ہے تو نہ صرف ہاتھوں اور پیروں کے پٹھوں کو خون کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے، بلکہ دل کے لئے بھی خون کی فراہمی ممکن بنانے کے لئے تیزی سے دھڑکنا لازم ہو جاتا ہے۔ ایسی  صورتحال میں جسم کے پٹھے اور دل دونوں ہی  توانائی یا کیلوریز  خرچ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دل اور پٹھوں کوچستی سے کام کرنے کی عادت ڈل جاتی ہے  جس کے مفید اثرات لمبے عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اس قسم کی ورزشوں کو  کارڈیو یا ایروبک ورزش کہا جاتا ہے۔ ان میں جاگنگ، واک، سائیکل چلانا اور تیراکی وغیرہ شامل ہیں۔اس قسم کی ورزشیں تمام عمر کے افراد کے لئے مفید ہیں۔

 

ویٹ لفٹنگ

ویٹ لفٹنگ سے جسم کے پٹھوں کو بہت بھاری وزن اٹھانے کی عادت پڑتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کے پٹھے سائز میں بڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی  معمول کی توانائی کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔ویٹ لفٹنگ بھی کچھ حد تک چربی کو کم کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہے  ۔ ویٹ لفٹنگ کا مشورہ نوجوان لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں اور ہڈیوں میں زیادہ وزن برداشت کرنے کی طاقت نہیں رہتی ۔ اس وجہ سے بڑی عمر کے لوگوں کو اس میں احتیاط کی تلقین کی جاتی ہے۔

 

کھانے میں احتیاط

ہماری عام خوراک میں بہت سی ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں  جو توانائی یا کیلوریز  سے  لبا لب بھری ہوتی ہیں ۔ ان میں مٹھائیاں، کولڈ ڈرنک  کی بوتلیں، گھی میں تلی ہوئی چیزیں اور زیادہ گھی والے سالن شامل ہیں۔ ان تمام چیزوں سے حاصل ہونے والی کیلوریز ہمارے جسم کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ وزن کو بڑھنے سے روکنے کے لئے ان چیزوں سے پرہیز بہت ضروری ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف چکنائی والی چیزیں موٹاپا کرواتی ہیں مگر  جدید تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ میٹھی چیزوں کے استعمال سے بھی موٹاپے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

 

خاص قسم کی ڈائٹ

اوپر بتائی گئی چیزوں سے احتیاط صرف وزن کو بڑھنے سے روکنے میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ پہلے سے بڑھے وزن کو کم کرنے کے لئے اس احتیاط میں ایک قد م اور آگے جانا ہوتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ روٹی ، چاول اور دودھ وغیرہ کے استعمال میں بھی احتیاط کی جائے۔ خوراک کے سپیشلسٹ جن کو نیوٹریشنسٹ کہا جاتا ہے، ڈائٹنگ کے ایسے پلان بھی بناتے ہیں جن سے چند ہفتوں میں خاطر خواہ وزن گھٹایا جا سکتا ہے۔  ڈائٹنگ کے ایسے پلان جاننے کے لئے ہمارے اس آرٹیکل  کو پڑھیں۔ 

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *