معدے کی تیزابیت
امراض،ہاضمے کے امراض

معدے کی تیزابیت

02 July, 2020

معدے کی تیزابیت  کلینک میں دیکھی جانے والی ایک بہت عام شکایت ہے ۔ آج کل فاسٹ فوڈ، باربی کیو اور مرغن غذاوّں کا ہر کوئی شوقین ہے ، مگر کم ہی لوگ یہ جانتے ہیں کہ کھانے پینے میں بداحتیاطی اور سگریٹ چائے معدے کی تیزابیت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اس پوسٹ میں ہم معدے کی تیزابیت کی وجوہات، علامات اور علاج کے بارے میں آپ کو آگاہ کریں گے۔ 

 

معدے میں تیزاب کیوں بنتا ہے؟

اللہ نے انسانی معدے کو انتہائی طاقتور تیزاب پیداکرنے کی صلاحیت دی ہے۔ یہ تیزاب خوراک کو گلانے اور ہضم کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ تیزاب اتنا تیز ہوتا ہے کہ کسی بھی قسم کے گوشت کو گلا سکتا ہے۔ تیزاب کے ساتھ ساتھ معدہ ایک گاڑھا لعاب بھی بناتا ہے جو اس کے  پیندے کو اند ر سے ایک تہہ کی صورت میں لپیٹ لیتا ہے۔ یہ تہہ تیزاب کو معدے کا اپنا گوشت گلانے سے روکتی ہے۔

 

معدہ کب ضرورت سے زیادہ تیزاب بناتا ہے ؟

بعض اوقات معدہ عام حالات سے زیادہ تیزاب پیدا کرتا ہے جس سے پیٹ اور سینے میں جلن کی شکایت ہوتی ہے۔ تیزاب کی مقدار مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہے جن میں سے چند یہ ہیں:

 

غذا

مرغن اور مصالحہ دار چیزیں کھانے سے معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ پھل اور سبزیاں تیزابیت کو کم کرتے ہیں۔

 

کھانے کے بعد لیٹنا

اگر کسی کو معدے کی تیزابیت کی شکایت ہو تو یہ تکلیف کھانے کے فوراْ بعد لیٹنے سے بڑھ جاتی ہے۔ لیٹنے سے معدے کا تیزاب اوپر کی طرف خوراک کی نالی کے اندر رسنے لگتا ہے اور جلن کا باعث بنتا ہے۔

 

سگریٹ

 ہمارے جسم کے اعصاب میں ایک کیمیکل ایسیٹائل کولین پایا جاتا ہے جو معدے کو زیادہ تیزاب بنانے کا پیغام دیتا ہے۔  سگریٹ میں موجود نکوٹین کا اثر ایسیٹائل کولین جیسا ہوتا ہے، جس سے معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔

 

چائے

چائے اور کافی کے زیادہ استعمال سے بھی معدے کی تیزابیت بڑھتی ہے۔

 

معدے کا انفیکشن

باہر کے جراثیم آلود کھانے کھانے سے معدے کے اندر ایک جراثیم H. Pylori  کا انفیکشن ہو جاتا ہے۔ یہ جرثومہ معدے کے اندر لعاب کی تہہ میں سوراخ بنا دیتا ہے جس سے تیزاب معدے کے گوشت تک پہنچ کر اس کو گلانے لگتا ہے۔ اس جراثیم کے انفیکشن سے معدے کے اندر خطرناک السر پیدا ہوسکتے ہیں جن سے معدے اور سینے کی جلن کی شدید تکلیف ہوتی ہے۔

 

علامات

معدے کی تیزابیت کی   پیٹ اور سینے میں جلن جیسا درد پیدا کرتی ہے ۔ عموما یہ درد ناف کے اوپر پیٹ کے درمیانی حصے ، اور سینے کے نچلے حصے میں ہوتا ہے۔ مرض کے بڑھنے سے یہ جلن سینے کے اوپر کے حصے میں بھی ہو سکتی ہے۔ تیزابیت کی وجہ سے ہونے والی جلن رات کو سونے کے وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ لیٹنے سے معدے کا تیزاب خوراک کی نالی میں رسنے لگتا ہے۔ اگر یہ تیزاب خوراک کی نالی کے راستے منہ تک پہنچنے لگے تو صبح اٹھنے پر منہ  کڑوا ہونے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

 

علاج:

عادتوں میں تبدیلی

ہم نے معدے کی تیزابیت کی بہت سی وجوہات پر بات کی ہے۔ اس تیزابیت کے علاج کا سب سے موثر طریقہ ان عوامل پر قابو پانا ہے جو تیزابیت کو کم کرتے ہیں۔ اس کے لئے مریض کو اپنی عادتوں میں  یہ تبدیلیاں لانی  چاہئیں:

   مرغن اور مصالحہ دار غذا کا استعمال کم کرنا۔

   باہر کے کھانے پر  گھر کے صاف کھانے کو ترجیح دینا۔

   رات کا کھانے سونے سے کم از کم دوگھنٹے پہلے کھانا۔

   سگریٹ نوشی کو ترک کرنا ۔

   چائے اور کافی کا استعمال دن میں سے ایک سے دو کپ تک رکھنا۔

 

ادویہ

معدے کی تیزابیت کے لئے ڈاکٹر حضرات چند دوائیں بھی دیتے ہیں جو معدے کے اندر تیزاب کی مقدار کو کم  کرتی ہیں۔ بعض دوائیں معدے کے السر کو لعاب کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں تا کہ تیزاب کے اثر سے السر گہرا نہ ہوتا جائے۔ عادتوں میں تبدیلی کے ساتھ یہ دوائیں تیزابیت کے علاج میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ 

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *