لیسک سرجری
امراض،آنکھوں کے امراض

لیسک سرجری

  دور کی نظر کمزور ہونا امراض چشم میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مسئلے کو طبی زبان میں "مایوپیا" کہا جاتا ہے. عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی تیس فیصد آبادی   دور کی نظر کی کمزوری کا شکار ہے۔ روایتی طور پر قریب کی نظر کی کمزوری کے لئے نظر کے چشمے اور لینز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن جدید دور  میں پاکستان میں بھی  نظر کی کمزوری کا علاج بذریعہ لیزر سرجری ممکن ہو چکا ہے۔ سرجری کے ذریعے عمر بھر ہر چشمے یا لینز لگانے سے بچا جا سکتا ہے۔اس مسئلے کے تدارک کے لیے سب سے زیادہ عام کی جانے والی سرجری کا نام "لیسک سرجری" ہے۔

 

لیسک سرجری کیا ہے

لیسک سرجری ایک "آؤٹ پیشنٹ" سرجری ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس سرجری کے لیے ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ کسی بھی آنکھ کے سرجن کے کلینک پر کی جاسکتی ہے۔  اس سرجری کے لئے "لوکل انیستھیزیا" دیا جاتا ہے،  یعنی آنکھ کے جس حصے میں سرجری ہونی ہے اس کو سن کر دیا جاتا ہے۔

 

لیسک سرجری کا دورانیہ

"لیسک سرجری" کا عام دورانیہ ایک آنکھ کے لئے 10 سے 15 منٹ ہے۔ لیکن سرجری کی تیاری وغیرہ ملا کر دو گھنٹے کے لگ بھگ وقت درکار ہوتا ہے۔

 

لیسک سرجری کیسے کی جاتی ہے؟

اس سرجری میں آنکھ کی باہری جھلی یعنی "کارنیا" میں لیزر کے ذریعے شگاف کیا جاتا ہے۔ اس شگاف کے ذریعے کارنیا کا کچھ حصہ باہر نکال لیا جاتا ہے۔سرجری کے بعد مریض کی آنکھ کو کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ  درد کش ادویات بھی دی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد مریض کو گھر بھیج دیا جاتا ہے اور اگلے دن دوبارہ بلایا جاتا ہے۔دوسرے دن سرجن مریض کی آنکھ کا معائنہ کرتا ہے اور حسب ضرورت انفیکشن اور سوزش کے خطرے کو کم کرنے کے لیے آنکھوں کے قطرے تجویز کرتا ہے۔

اس سرجری کے بعد ضروری ہے کہ متعدد بار ڈاکٹر سے متاثرہ آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔ معائنے کا یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہتا ہے۔سرجری کے بعد مریض کو آنکھوں میں جلن اور چبھن محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آنکھوں سے پانی بھی نکل سکتا ہے۔سرجری کے چند دن بعد ہی مریض اپنی روزمرہ کے معمولات دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔کچھ دنوں کے لیے آنکھوں میں خشکی کی کیفیت بھی واضح ہو سکتی ہے۔سرجری کے بعد دو ہفتوں تک مریض کو ڈرائیونگ، سوئمنگ اور آنکھوں کے میک اپ سے اجتناب کرنا چاہیے۔

 

لیسک سرجری کتنی موثر ہے؟

 دور کی نظر کی کمزوری کے خلاف لیسک سرجری انتہائی موثر ہے۔ تقریبا تمام مریض اس سرجری کے بعد اپنی نظر میں بہتری محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ مریضوں کی کثیر تعداد کی قوت نظر 20/20  تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

 

لیسک سرجری کی پیچیدگیاں

اس سرجری میں پیچیدگیوں کا خطرہ بہت کم ہوتا ہےلیکن بعض اوقات مریض میں مندرجہ ذیل پیچیدگیاں ظاہر ہو سکتی ہیں:

 نظر دھندلا جانا:

  سرجری کے بعد آنکھ میں ہونے والی سوزش کے باعث کچھ مریضوں کی نظر دھندلا آ سکتی ہے۔ لیکن یہ دھند لاہٹ چند دنوں کے بعد خود ہی ختم ہو جاتی ہے

 

 رات کو دیکھنے میں دقت:

   بعض اوقات کچھ مریضوں کو سرجری کے بعد رات کے وقت صحیح طرح دیکھنے میں دشواری پیش آسکتی ہے

 

انفیکشن:

   بہت کم مریضوں میں اس سرجری کے بعد آنکھ کی انفیکشن بھی جنم لے سکتی ہے۔ یہ ایک سنجیدہ صورتحال کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے، لیکن مناسب احتیاط کے ذریعے اس پیچیدگی سے بچاؤ ممکن ہے

 

گلا کوما:

    چند مریضوں میں سرجری کے بعد آنکھ کے اندرونی حصے کا پریشر بڑھ سکتا ہے، جو کالا موتیا یعنی گلا کوما کا سبب بن سکتا ہے

 

کیا آپ کو لیسک سرجری کروانی چاہیے؟

اگر آپ    دور کی نظر کی کمزوری کا شکار ہیں، اور اس سرجری میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو اپنے ڈاکٹر سے اس بارے میں رجوع کریں۔ڈاکٹر آپ کی نظر کا مکمل معائنہ کرے گا اور اس بنیاد پر فیصلہ کرے گا کہ یہ سرجری آپ کے لیے فائدہ مند ہوگی یا نہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر آپ کو اس سرجری کے فائدے اور نقصانات، اور  اس سرجری کے اخراجات سے بھی آگاہی فراہم کرے گا۔

 

یاد رکھیں، یہ سرجری ہر قسم کی نظر کی کمزوری کے لئے آزمودہ نہیں اور اس سرجری کی افادیت ہر مریض کے لئے مختلف ہوتی ہے۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *