قبض
امراض،ہاضمے کے امراض

قبض

02 July, 2020

اکیسویں صدی اپنے ساتھ ہزاروں نئی روایات کے ساتھ فاسٹ فوڈ کا رجحان بھی لے کر آئی ہے۔آج کے دور میں ہر بندہ فاسٹ فوڈ کا شوقین ہے۔ برگر ہو ، پیزا ہو یا شوارمہ، نام سنتے ہی ہم سب کے منہ میں پانی آ جاتا ہے۔ خاص طور پر بچے تو فاسٹ فوڈ کے دیوانے ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ دن میں تین وقت بس فاسٹ فوڈ ہی کھاتے جائیں۔

فاسٹ فوڈ اور بازار کی مرغن غذائوں نے ہمارے عوام الناس کی صحت پر برے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یوں تو ان غذائوں نے بہت سی بیماریوں کو عام کیا ہے، لیکن معدے کی تیزابیت اور قبض دو ایسی شکایات ہیں جو ہم لوگوں کو آئے روز تنگ کرتی ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم قبض کے اوپر بات کریں گے۔

 

ہاضمے کا نظام

قدرت نے ہمارے ہاضمے کا نظام ایک لمبے پائپ کی صورت کا بنایا ہے۔ یہ پائپ منہ سے شروع ہوتا ہے اور خوراک کی نالی، معدے ، چھوٹی آنت اوربڑی آنت سے ہوتا ہوا پاخانے کی جگہ تک پہنچتا ہے۔ اس پائپ کی کل لمبائی قریبا تیس فٹ ہے۔ اس پائپ کے مختلف حصوں کا کام مختلف ہے۔ مثال کے طور پر معدے کا کام خوراک کو تیزاب کے ذریعے نرم کرنا، گلانا اور پھر چکی کی ہلتے ہوئے پیسنا ہے۔ اس کے بعد بڑی آنت اور چھوٹی آنت کے مختلف حصے اس گاڑھے آمیزے کی مانند خوراک  کو آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے اس میں سے پانی، غذائی اجزا اور معدنیات کو جذ ب کرتے ہیں۔ تمام اہم غذائی اجزا جذب ہونے کا بعد خوراک میں موجود فاضل اور ناکارہ معدے پاخانے کی صورت میں جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ آپ یہ آرٹیکل پڑھتے ہوئے جو بھی چیز کھائیں گے، وہ اگلے ۲۴ سے ۷۲ گھنٹوں میں  ہاضمے کے پائپ سے گزرتی ہوئی جسم سے خارج ہو جائے گی۔

 

ہاضمے کا دورانیہ اور قبض

ہاضمے کا دورانیہ بہت سی چیزوں پر منحصر ہے۔ ان مختلف چیزوں میں دو سب سے اہم چیزیں ہماری غذا کی قسم اور ہماری جسمانی ورزش کی روٹین ہے۔ تلی ہوئی چیزیں،سرخ گوشت، مکھن ،  پنیر ، چاول ، سفید آٹے کی روٹی ، نان وغیرہ دیر سے ہضم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، سبزیاں، پھل، دالیں، دہی وغیرہ جلدی ہضم ہوتے ہیں۔ ہاضمے کا دورانیہ  آنتوں کے خوراک کو آگے دھکیلنے کی رفتار سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ جسمانی ورزش سے آنتوں کی حرکت کی رفتاربڑھتی ہے جبکہ دن بھر بیٹھ کر کام کرنے سے یہ رفتار کم ہو جاتی ہے۔

  اوپر ہم نے ذکر کیا کہ آنتیں خوراک میں سے پانی بھی جذب کر تی ہیں۔ جب کوئی خوراک آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہوئے دیر  تک آنتوں میں پڑی رہے تو آنتیں اس میں سے تقریبا سارا پانی جذب کر لیتی ہیں۔معدنیات کے ساتھ سارا پانی جذب ہونے کے بعد جو فاضل مادہ یا پاخانہ بچتا ہے، وہ بہت خشک اور سخت ہو جاتا ہے۔ اسی خشک اور سخت پاخانے کو ہم قبض کے نام سے جانتے ہیں۔

 

قبض کشا غذا

قبض سے بچنے اور اس کے علاج کے لئے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئیے۔ اس کے علاوہ پھلوں سبزیوں اور کھانے کے ساتھ سلاد کے استعمال سے بھی قبض میں افاقہ ہوتا ہے۔

 

ورزش

جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ ورزش سے آنتوں کی حرکت تیز ہوتی ہے، چلنے پھرنے اور ورزش کرنے سے بھی قبض میں بہتری آ سکتی ہے۔

 

اسپغول

قبض کے علاج کے لئے ہمارے بڑے اور بزرگ ہمیں بچپن سے کچھ ٹوٹکے بتاتے چلے آئے ہیں۔ ان ٹوٹکوں کی افادیت کو جدید میڈیکل سائنس نے بھی ثابت کیاہے۔ ان میں سب  سے کارگر طریقہ اسپغول کا استعمال ہے۔ ایک چمچ اسپغول کو ایک گلاس پانی میں گھول کر ہر صبح استعمال کرنے سے قبض ختم ہو سکتی ہے۔

 

دوائیاں

بعض اوقات جب ان تمام طریقوں سے بھی قبض میں افاقہ نہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کر کے چند دوائیاں استعمال کی جا سکتی ہیں جو پاخانے کو نرم کرتی ہیں اور آنتوں کی حرکت بڑھا کر قبض ختم کرتی ہیں۔ 

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *