شراب نوشی کے نقصانات
صحتمند زندگی،منشیات

شراب نوشی کے نقصانات

05 November, 2020

شراب نوشی مغربی ممالک میں عام سرگرمی ہے جو کہ سماجی طور پر قابل قبول تصور کی جاتی ہے۔ مشرقی ثقافتوں میں مذہبی وجوہات کہ باعث البتہ اس کا استعمال عام طور پر کم سمجھا جاتا ہے، لیکن شراب نوشی سے پیدا ہونے والے مسائل یہاں بھی پائے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہِ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تیس لاکھ لوگ شراب نوشی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں شراب نوشی پر پابندی عائد ہے، پھر بھی تہواروں کے دنوں میں کئی لوگ کچی شراب یا زیادہ شراب پینے سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے   کہ شراب کی عادت اور زیادہ مقدار میں استعمال جان لیوا ہے۔

مسلسل شراب کا استعمال انسان کو جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔ شراب پینے سے جسم کے مختلف اعضاء متاثر ہوتے ہیں، جس میں جگر، معدہ، دماغ، دل اور ہڈیاں شامل ہیں۔ لمبے عرصے تک شراب نوشی کرنے سے جسم میں سرطان (یعنی کینسر) کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں اور قوت مدافعت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

 

شراب نوشی کے جگر پر منفی اثرات:

 اس عادت کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا عضو جگر ہے۔ شراب کے ہاضمے کا عمل جگر میں ہی ہوتا ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ شراب  آنتوں کے ذریعے خون میں جذب ہونے کے بعد جگر میں جاتی ہے اور جگر شراب کے اجزا کو توانائی اور فاضل معدوں میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ جگر عام طور پر شراب کی بہت کم مقدار کو ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شراب کے زیادہ یا مسلسل استعمال سے جگر پر چربی کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور جگر میں سوزش بھی ہو سکتی ہے۔  جگر میں سوزش کی علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں:

   بخار

   ورم

   جلد اور آنکھوں کا زرد رنگ پکڑنا (یرقان)

   پیٹ میں دائیں طرف درد

یہ شکایات دیر سے آسکتی ہیں اور اگر  علاج نہ کروایا جائے تو کچھ عرصے میں جگر کا بڑا حصہ سوزش کے باعث سخت ہو کر سکڑ سکتا ہے۔ شراب نوشی کرنے والے شخص کا جگر رفتہ رفتہ اپنی کارکردگی کھوتا جاتا ہے اور آخر کار مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے۔  جگر کا ناکارہ ہو جانا جان لیوا ثابت ہو تا ہے۔ شراب کے استعمال سے اسی طرح کی سوزش اور مسائل لبلبہ میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

 

شراب نوشی کے خوراک کی نالی اور معدہ پر اثرات:

شراب خوراک کی نالی اور معدہ پر مہلک اثر رکھتی ہے۔ بار بار شراب پینے سے معدہ میں زخم اور تیزابیت  پیدا ہو سکتے ہیں جو پیٹ میں شدید درد اور الٹی  متل کی وجہ بنتے ہیں۔ مسلسل الٹی کرنے سے خوراک کی نالی پھٹ سکتی ہے۔ ان  زخموں سے  بہنے والا خون جسم کے اندرونی حصوں میں جمع ہو کر موت کا سبب بن سکتا ہے۔ مختلف ماہرین کی تحقیقات کے مطابق شراب پینے سے منہ، حلق، معدہ، آنتوں اور چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اور اگر مریض اس کے ساتھ تمباکو نوشی بھی کرتا ہو تو امکانات اور بڑھ جاتے ہیں۔

 

ذہنی توازن پر اثر:

شراب ایک نشہ آور  مادہ ہے، یعنی اس کے استعمال سے انسان اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے۔ ذہنی طور پر مکمل طور پر حاضر نہ ہونے سے انسان کو کئی خطرے لاحق ہو سکتے ہیں۔ شراب کی عادت لگ جانے کے بعد انسان اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتا اور مختلف حادثات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال شراب پی کر گاڑی چلانا ہے جس میں ذہنی توجہ موجود نہ ہونے اور نظر کا کمزور ہو جانے کی وجہ سے حادثہ پیش آ سکتا ہے جو نہ صرف گاڑی چلانے والے کے لئے خطرہ ہے بلکہ راہ چلتے لوگوں کے لئے بھی جان لیوا ثابت ہو تا ہے۔ اسی طرح شراب کے نشہ میں انسان اپنے آپ کو یا گھر میں کسی اور کو تشدد کا نشانہ بنا سکتا ہے جو جانی  نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

 

سماجی مشکلات کا سامنا:

   زیادہ مقدار میں شراب پینے والا انسان اپنی سماجی حیثیت بھی گنوا بیٹھتا ہے۔

   نشے کی حالت میں انسان غلط فیصلے لے کر اپنے پیاروں سے تعلقات کو خراب کر دیتا ہے۔

   نشہ ور عادات کا تعلق پشہ ورانہ طور پر ناکام ہونے سے بھی جوڑا جاتا ہے، جس سے انسان ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کے ساتھ مالی بحران میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

   نشہ کی حالت میں قانون کی خلاف ورزی کرنے سے شراب نوشی کرنے والا خود کو ایک اور مسئلے میں دھکیل سکتا ہے۔

   اگر والدین میں سے کوئی شراب پئے تو بچوں کی پرورش اور نشو نما پر برا اثر پڑتا ہے، جو پورے معاشرے کے لئے باعثِ تشویش ہے۔

 

علاج اور مدد طلب کرنا:

شراب کی عادت سے نجات حاصل کرنا اہم ہے اور مختلف دماغی  ہسپتال اوربحالی کے مراکز اس میں مدد کر سکتے ہیں۔ شراب کے عادی افراد کو  فوری طور پر طبی اور نفسیاتی رہنمائی طلب کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں محسوس کرنی چاہیے، کیونکہ وقت پر شراب ترک کرنا ہی تمام مسائل کا بہترین حل ہے۔

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *