بلڈ پریشر
امراض،دل کے امراض

بلڈ پریشر

29 June, 2020

ہائی بلڈ پریشر کیا ہے؟

ہمارے جسم میں دل اور رگوں کانظام تمام رگوں میں خون کا ایک مناسب پریشر برقرار رکھتا ہے تا کہ جسم کے تمام اعضاء میں خون ٹھیک طریقے سے سرایت کر سکے۔ بعض لوگوں میں رگوں کے اندر خون کا یہ پریشر نارمل مقدار سے  بڑھ جاتا ہے۔ اس بڑھے ہو پریشر کو میڈیکل کی زبان میں 'ہائپر ٹینشن'  (Hypertension)  کہا جاتا ہے۔

 

کیابلڈ پریشر کی کوئی علامات ہوتی ہیں؟

اکثر لوگوں کو بلڈ پریشر بڑھا ہونے کے باوجود کوئی علامات نہیں محسوس ہوتیں۔ بلڈ پریشر کا مرض ایک خاموش مرض ہے  جو آہستہ آہستہ جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اکثر مریضوں میں اس کی تشخیص معمول کے چیک اپ میں ہوتی ہے۔  بعض لوگوں میں لمبے عرصے تک تشخیص اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے جسم کے اعضاء برے طریقے سے متاثر ہو جاتے ہیں جس کے بعد ان کو ان اعضاء کی کارکردگی سے متعلق  علامات ہونے لگتی ہیں۔

 

بلڈ پریشر کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

بلڈ پریشر کی تشخیص کے لئے ڈاکٹر کلینک میں بلڈ پریشر چیک کرنے والے آلہ سے دو مختلف اوقات میں بلڈ پریشر چیک کرتے ہیں ۔ اگر دونوں دفعہ بلڈ پریشر 140/90 سے زیادہ آئے تو بلڈ پریشر کے مرض کی تشخیص کی جاتی ہے۔

 

کیا نارمل لوگوں میں بھی بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے؟

 بعض اوقات چلنے پھرنے ، سیڑھیاں چڑھنے اور بھاگنے کے بعد بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جو کہ جسم کا ایک نارمل عمل ہے اور اس سے ہائی بلڈ پریشر کے مرض کی تشخیص نہیں ہوتی۔ کچھ لوگوں میں ڈاکٹر کے کلینک میں گھبراہٹ کہ وجہ سے بلڈ پریشر ان کے جسم کے اوسط سے بڑھ جاتا ہے جسے وائٹ کوٹ ہائپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک نارمل عمل ہے اور ایسے مریضوں کو گھر پر بلڈ پریشر چیک کرکے ڈائری بنانے کی تجویز دی جاتی ہے تا کہ وائٹ کوٹ ہائپر ٹینشن اور ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں تفریق کی جا سکے۔

 

بلڈ پریشر کا علاج کیوں ضروری ہے؟

اس پریشر کے بڑھنے سے رگوں کی اندرونی تہہ متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے جسم کے اعضاء کو خون کی ٹھیک سے فراہمی نہیں ہو پاتی ۔ رگوں کے متاثر ہونے کا یہ عمل سست ہوتا ہے اور علامات کے ظاہر ہونے میں کئی سال لگتے ہیں۔بلڈ پریشر کے مرض میں خون کی کم فراہمی کی وجہ سے سب سے زیادہ گردہ ، آنکھوں کے پردےاور اعصابی نظام نقصان اٹھاتے ہیں ۔ اگر بلڈ پریشر کو کنٹرول میں نہ رکھا جائے تو رفتہ رفتہ گردے اپنا کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں اور بینائی کمزور ہوسکتی ہے۔

اگر بلڈ پریشر کسی وقت بہت زیادہ بڑھ جائے تو آنکھ کے پردے اور دماغ کے اندر کی چھوٹی چھوٹی شریانیں پھٹ بھی سکتی ہیں ۔ اس کے نتیجے میں اچانک سے آنکھ کی بینائی چلی جانا اور فالج کی علامات ہو سکتی ہیں۔

 اس کے علاوہ بڑھے ہوئے پریشر کے خلاف خون کو پمپ کرنے کی کوشش میں مریض کے دل پر دباؤپڑتا ہے جس سے دل کا عارضہ لاحق ہونے کا خطرہ بڑھتا جاتا ہے۔


ہائی بلڈ پریشر کا علاج کس طرح کیا جاتا ہے؟

بلڈ پریشر کے علاج کے لئے عام طور پر ڈاکٹر ایسی ادویات استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو دل اور رگوں پر اثر انداز ہوتے ہوئے  بلڈ پریشر کو کم کرتی ہیں ۔ ایسی ادویات گولیوں کی صورت میں لی جاتی ہیں اور تشخیص کے بعد  اکثر مریضوں کو لمبے عرصے تک لینی پڑتی ہیں ۔ لمبے عرصے تک گولیاں کھانے کا تصور عام طور پر لوگوں کے لئے نا قابل قبول ہوتا ہے، مگر بلڈ پریشر کے صحت پر گہرے اثرات  اور دواؤں کے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے میڈیکل سائنس دواؤں کے استعمال پر بہت زور دیتی ہے۔ 

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز کو نشان لگا دیا گیا ہے *